Skip to main content

Posts

Showing posts with the label knowledgeiswealth

Salam Aqeedat

 Salaam Aqeedat مرے کلام پہ حمد و ثناء کا سایہ ہے  مرے کریم کے لطف و عطاء کا سایہ ہے میں حمد و منقبت و نعت لکھ رہا ہوں،  میرے تخیلات شاه ھدی کا سایہ ہے لکھا ہے حسن جہاں، اُس کو پڑھ چکا ہوں  حسن کیں پہ خامس آل عبا کا سایہ ہے خدا نے ہم کو نوازا حواس خمسہ سے  یہ ہم پہ پنجتن با صفا کا سایہ ہے کوئی مریض ہو لے جا رضا کے روضے پر  وہیں طبیب ہے، دار الشفاء کا سایہ ہے سفر ہو یا ہو حضر مجھ کو کوئی خوف نہیں  کہ مجھ پہ شاہ نجف مرتضی کا سایہ ہے علی امام مرا، اور میں غلام علی  علی کی شان پر تو لافتی کا سایہ ہے علی کا نام تو حرز بدن ہے اپنے لیے  علی کے اسم پہ رب علی کا سایہ ہے ن لطف احمد مرسل بفضل آل رسول  میں خوش نصیب ہوں مجھ پر ہما کا سایہ ہے وہی ہے نفس پیمبر وہی ہے زوج بتول  علی کی ذات پر ہی ہل اتی کا سایہ ہے ریاض خلد کے سردار شبر و شبیر  حدیث پاک ہے، خیر الوریٰ کا سایہ ہے سفیر کرب و بلا، زینب حزیں پہ سلام  وہ جس کے عزم پہ خیر النسا " کا سایہ ہے تری دعا کی اجابت میں دیر کیا ہو گی  علی کا نام لے! حاجت روا کا سایہ ہے نجات پائے گا ہر دکھ سے تو نہ رہ ناشاد  کہ تجھ پہ رحمت ارض و سماء کا سایہ ہے mar

Beautiful Words About Knowledge in English Urdu and Hindi

Beautiful Words About Knowledge in English Urdu and Hindi علم ایک دولت ہے کائنات کی سب سے بڑی دولت علم ہے۔ علم عجائبات قدرت میں سے ہے۔ اس میں ایٹم سے زیادہ قوت و توانائی اور حسن و نور ہے۔ یہ جمالیاتی تخلیقی قوت کا لامتناہی سرچشمہ ہے۔ صریر خامہ اور صور اسرافیل ہے ۔ اس میں تاثیر کن بھی ہے اس کا دم دم جبریل ، اس کا نفس نفس مسیحائی اور اس کی کلام میں موجودگی ، تاثیر برق حسن ہے جو دلوں کو ژندہ اور ظلمتوں کو دور کرتی ہے ۔ بیماروں کو شفا بخشتی ہے اور زندگی کے جادہ مستقیم کو روشن کرتی ہے۔ قلم کو پوری قوت سے تھاما جائے تو اللّٰہ کے بندوں کو خون آشام بشری چنگل سے چھڑایا جا سکتا ہے قلم کافی ہے ارباب قلم کو قلم دان وزارت کی، ہوس کیا تم دولت کی حفاظت کرتے ہو اور علم تمہاری حفاظت کرتا ہے۔ دولت دشمن پیدا کرتی ہے اور علم دوست بناتا ہے ۔ دولت تقسیم کرنے سے کم ہوتی ہے اور علم بانٹنے سے بڑھتا ہے ، دولت مند کنجوس اور علامہ فیاض ہوتا ہے ۔ نیز علم کو چوری چکاری کا خطرہ نہیں ہوتا ہے ۔ دولت جتنی بھی ہو محدود ہوتا ہے اور علم لامحدود ہوتا ہے۔ دولت سے اکثر دل و دماغ پر سیاہی چھا جاتی ہے جبکہ علم دل و دماغ کو روش