Skip to main content

Posts

Showing posts with the label besturduquotes

Salam Aqeedat

 Salaam Aqeedat مرے کلام پہ حمد و ثناء کا سایہ ہے  مرے کریم کے لطف و عطاء کا سایہ ہے میں حمد و منقبت و نعت لکھ رہا ہوں،  میرے تخیلات شاه ھدی کا سایہ ہے لکھا ہے حسن جہاں، اُس کو پڑھ چکا ہوں  حسن کیں پہ خامس آل عبا کا سایہ ہے خدا نے ہم کو نوازا حواس خمسہ سے  یہ ہم پہ پنجتن با صفا کا سایہ ہے کوئی مریض ہو لے جا رضا کے روضے پر  وہیں طبیب ہے، دار الشفاء کا سایہ ہے سفر ہو یا ہو حضر مجھ کو کوئی خوف نہیں  کہ مجھ پہ شاہ نجف مرتضی کا سایہ ہے علی امام مرا، اور میں غلام علی  علی کی شان پر تو لافتی کا سایہ ہے علی کا نام تو حرز بدن ہے اپنے لیے  علی کے اسم پہ رب علی کا سایہ ہے ن لطف احمد مرسل بفضل آل رسول  میں خوش نصیب ہوں مجھ پر ہما کا سایہ ہے وہی ہے نفس پیمبر وہی ہے زوج بتول  علی کی ذات پر ہی ہل اتی کا سایہ ہے ریاض خلد کے سردار شبر و شبیر  حدیث پاک ہے، خیر الوریٰ کا سایہ ہے سفیر کرب و بلا، زینب حزیں پہ سلام  وہ جس کے عزم پہ خیر النسا " کا سایہ ہے تری دعا کی اجابت میں دیر کیا ہو گی  علی کا نام لے! حاجت روا کا سایہ ہے نجات پائے گا ہر دکھ سے تو نہ رہ ناشاد  کہ تجھ پہ رحمت ارض و سماء کا سایہ ہے mar

naat e rasool

 Naat E Rasool  رو میں ہے رخش خامہ نبی کی شنا لکھوں  صادق لکھوں، امین لکھوں، مصطفی لکھوں  قرآن تمام مدح و ثنائے رسول ہے  بہتر یہی ہے اُن کو رسول خدا لکھوں  آدم سے قبل اُن کی جو تخلیق ہو گئی  تخلیق رب کی کیوں نہ انہیں ابتدا لکھوں  دنیا میں آج نور محمد ہوا ظہور  اس نور کو تو نور خدا بر ملا لکھوں  مہماں بنا کے لے گیا قوسین سے پرے  پھر کیوں نہ ضیف صاحب عرش علی لکھوں روشن نبی کے نور ہدایت سے کائنات  جی چاہتا ہے اس لئے شمس الہدی لکھوں تکمیل دین ہو گئی اُن کے ظہور سے لازم ہے اُن کو وارث کل انبیا لکھوں عالم انہیں کے واسطے تخلیق ہو گیا  حق ہے کہ اُن کو باعث ارض و سماء لکھوں ان پر درود بھیجتا ہے رب ذوالجلال  پھر کیوں نہ میں بھی صاحب صل علی لکھوں سارے صفات لکھ دیئے قرآن پاک نے  اب میں لکھوں انہیں تو حبیب خدا لکھوں اُن کا لقب بشیر و نذیر و رشید ہے  ہے آفتاب رشد و ہدایت بجا لکھوں یثرب کی ظلمتوں میں جو پھیلائی روشنی  اُن کا لقب لکھوں تو میں بدر الدجی لکھوں اے آفتاب برج نبوت سلام ہو  سب کچھ خدا نے لکھ دیا میں اور کیا لکھوں ناشاد پر نگاہ کرم! اذن ہو تو میں  اپنے لئے فدائے محمد سدا لکھوں ro mein hai Ra

Hamd e Bari Talaa

 Hamd e Bari Talaa kkhuda hi maalik arz o Samah hai wohi to sahib arsh Ali hai wohi baari wohi Razaq sabhi ka jisay jitna mila is ki ataa hai tawana koi hai koi marz mein magar har aik بعہد ibtila hai kkhuda ke wastay samjhain yeh nuqta bashar ko Khalq is ne kyun kya hai ibadat maqsad takhleeq aadam abodit hi raah paarsa hai razaye haq agar mad nazar ho to har lhzh ibadat hai jaza hai taajjub hai wohi khaaliq sabhi ka magar har aik ki soorat judda hai hayaat o mout hai khalqat isi ki isi ka haath taqdeer ورضا hai hai jin ke noor se aalam Munawar woh Ahmed hai, Ali hai aur kkhuda hai ajab sanat hai is Sanie ki dekho عسل zanboor se peda kya hai woh zahreela magar is ke shikam se nikala shehad woh, jis mein Shifa hai meri arz watan mein ya Ellahi adalat aman sab ka mudda hai tri hamd o sana mein lab kushai زہے qismat بفضل mustafa hai likhi hai hamd kya Nashad to ne tri kawish firshton ki dua hai خدا ہی مالک ارض و سماء ہے وہی تو صاحب عرش علی ہے وہی باری وہی رازق سبھی کا جسے جتنا ملا اس کی

Bachat Karna Seekhein

 Bachat Karna Seekhein is kahani ma ham apko bata yen gay ki ham kis trah Bachat ki adaat apnaa sakty hain or kis trah ham payi payi payi jor kar aik bari raqam bna sakty hain..... kahani kay dosry hissay ma ham apko bata yen gay ki ha ham kis Trah Allah Talaa ki neemaat ka ziyaa honay se bacha sakty hain. To Khani ko parho or apni raye ka izhaar comment section ma zaroor karen  بچت کرنا سیکھیں فوزیہ اور اسماء ماں دونوں بہنیں ایک ہی سکول میں پڑھتی ہیں ہیں سکول جانے سے پہلے وہ اپنے ابا جان سے جیب خرچ کے لیے کچھ رقم لیتی ہیں ہیں یہ اپنے حصے کی کی رقم اسی دن خرچ کر دیتی ہے ہے جب اسما روزانہ اپنے جیب خرچ میں سے کچھ نہ کچھ بچا لیتی ہے ہوئے رقم سے اچھی اچھی کتابیں خریدی ہے اور انہیں سے اور بھی کوئی نہ کوئی چیز منگوانی لیتی ہے ۔ مثلاً گھڑی، اچھا قلم خوبصورت ہار وغیرہ سب گھر والے آسماں کی اس عادت کو بہت پسند کرتے ہیں ۔ ایک دن اب جان اسما کیلئے گھڑی لآئے تو فوزیہ ناراض ہوگئی فوزیہ نے اپنی امی جان سے شکایت کی کہ اباجان آسماں کے لیے تو اتنی زیادہ چیزیں لاتے ہیں لیکن مجھے صرف جیب خرچ ہی دیتے ہیں۔

Jhoot Ki Sazaa

 Jhoot Ki Sazaa فرض علی ایک غریب مانگ کا بیٹا تھا اس کی ماں بیمار رہتی تھی اس کا باپ ایک مزدور تھا جو ایک جھگڑے میں بے گناہ مارا گیا تھا علی صبح کے وقت پڑتا اور شام کو کام کرتا کتا ان کے گھر کا خرچ بڑی مشکل سے پورا ہوتا تھا جو پیسے ہوتے مان کی دوا پر لگ جاتے۔ ماں کی بڑی خواہش تھی علی پڑھ لکھ کے ملک و قوم کی خدمت کرے۔ ماں نے نصیحت کی کہ  بیٹا اگر دشمن بھی مشکل میں ہو تو تو اس کی مدد ضرور کرنا ایک دن علی جب سکول سے آیا تو مانگ کی طبیعت سخت خراب تھی سے علی اپنی ماں کو لے کر ہسپتال گیا لیکن ڈاکٹر نے غریب سمجھ کر اسے ٹھکرا دیا۔ علی بہت رویا یا مگر کسی نے اس کی ایک نہ سنی اسی طرح اس کی ماں دنیا سے رخصت ہوگئی ماں کے مرنے کا علی کو بہت دکھ ہوا مگر وہ دل لگا کر پڑھتا رہا آخر ایک دن وہ ایک بڑا ڈاکٹر بن گیا اور غریبوں کا علاج مفت کرنے لگا ایک روز اس کے پاس ایک ایمرجنسی آئی مریض کا بہت سا خون بہ چکا تھا تھا اور اس کے خون کا گروپ کہیں سے نہیں مل رہا تھا لڑکے کے باپ نے روتے روتے التجا کی کہ خدا کے لیے ڈاکٹر صاحب میں نے بیٹے کو بچائیں۔ علی نے جب لڑکے کے باپ کو دیکھا تو وہ وہیں ڈاکٹر تھا جس نے بیس برس

Multan ki tareekh

Multan ki tareekh ملتان کی تاریخ ملتان کو اولیائے کرام کی سرزمین کہا جاتا ہے ہے اس بنا پر ایک ہفتہ پاکستان میں ایک خاص مقام رکھتا ہے ان صوفیاء میں حضرت شاہ شمس حضرت اور شاہ رکن عالم نمایاں ہیں ہیں ان کی سرزمین نے کی صوفی شعراء پیدا کیے جنہوں نے صوفیانہ شاعری کو تقویت دی ان میں شاکر شجاع آبادی بڑی اہمیت کے حامل ہے م شیخ ملتان کی قدامت پر غور کریں  موہنجودارو اور ہر بات پر جیسے سینکڑوں نہیں بلکہ ہر مگر اس کا شکار ہو کر پھر صفحہ ہستی سے مٹ گئے لیکن بزرگ شہر ملتان ہزاروں سال پہلے بھی زندہ تھا عطا اور آج بھی زندہ ہے ملتان کو کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کرنے والے حملہ آور خود نیست و نابود ہو گئے لیکن ملتان آج بھی اپنے پورے تقدس کے ساتھ زندہ ہیں  کشتیوں کے ذریعے صرف سکھر اور بھکر ہی نہیں بلکہ عراق ایران اور دکن تک تجارت ہوتی اسی طرح کو تجارتی اور مذہبی مرکز کی حیثیت حاصل ہوئی ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا میں اس خطے سے اسلام کو پھیلانے کے لیے پیغام پہنچا۔ قیام پاکستان کے بعد ملتان نے بہت ترقی کی پرانا شہر تو اپنی تنگ گلیوں اور بازاروں سمیت چھ دروازوں میں گرا ہوا ہے یعنی دلی گیٹ، لوہاری، حرم گی

kamyabi ke liye sabr aur istiqamat

kamyabi ke liye sabr aur istiqamat  کامیابی کے لیے صبر اور استقامت صبر و استقامت تحمل اور بردباری ساری دنیا کے عظیم لوگوں کا شیوہ ہے صبر انسان کی ایک اعلی فضیلت ہے کبھی صبر اور سستی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے اور تقدیر اور ظلم پر راضی رہنے میں اشتباہ ہو جاتا ہے ۔ حالانکہ کی صبر و استقامت کامیابی کی ضمانت ہے جب کی سستی اور کاہلی بختی اور برے انجام کا سبب ہے مثال کے طور پر ایک مالی چاہتا ہے کہ اس کے باغ کے احاطے میں اتنے پھول کھلے ہوں کہ پورا ماحول خوشبو سے معطر رہے ہے اور پھولوں کے مختلف رنگ آنکھوں کو خیرہ کر یں اور باغ کا ماحول اچھا لگے لگے مالیہ گڑھ یہ آرزو رکھتا ہے تو اسے محنت کرنی چاہیے سردی گرمی برداشت کرنی چاہئے کانٹوں کے چبھن کا عادی ہوجانا چاہیے۔ وقت باغ کا معائنہ کرنا چاہیے ایک علیحدہ کو حاصل کرنے کے لیے اس طرح کی تکلیف برداشت کرنا صبر کہلاتا ہے ہم اپنے کالج کی مثال لیتے ہیں ہم دیکھتے ہیں کہ کالج میں جو لڑکا اپنا وقت ضائع نہیں کرتا ٹائم ٹیبل کا پابند ہے اور جو آپ نے اپنے اوقات کو کو اچھے کاموں کی طرف خرچ کرتا ہے وہ زیادہ اچھے نمبروں سے پاس ہوتا ہے اور اساتذہ کا زیادہ محبوب ہو

dosti

dosti   دوستی سچا دوست ایسے ہی ہوتا ہے جیسے ایک جسم میں دو جانیں فارسی میں اسے ایک جاں دو قالب کہتے ہیں دو جانوں کا مطلب ہے کہ دو الگ الگ روحیں ہوں لیکن ان کی سوچ زندگی گزارنے کا طریقہ دوسرے انسانوں کے ساتھ برتاؤ کا اندازہ ایک جیسا ہو دوست وہ ہوتا ہے جو ان لوگوں کو پسند کرے جن کو دوسرا دوست پسند کرتا ہے اور ان کو ناپسند کرے جن کو دوسرا دوست بننا پسند کرے دوست تلاش کرنا ایک مشکل مرحلہ ہے کہتے ہیں کہ دوست تلاش کرتے وقت ایک آنکھ بند کر لی جائے تب اس کی خامیاں اور کوتاہیاں نظر نہ آئے لیکن جب دوست بنا لیا تو دونوں کے بند کر لی جائے تا کی اس کی کوئی غلطی نظر نہ آئے میرے خیال میں میں دوستی آپ لوگوں کو میٹھے خربوزے کی تلاش میں سو خربوزے چیک کرنا ہوں گے مصیبت کے وقت مصنوعی مجبوریاں پیش کرنے والے لوگ لوگ مصلحت پسند اور مطلب پرست ہو سکتے ہیں لیکن دوست کبھی بھی نہیں ہو سکتے خوشحالی دوست بنانے کی وجہ سے آتی ہے اور مصیبت دوستی کو آزماتی ہے اگر کوئی مصیبت میں میں ساتھ چھوڑ جائے آئے تو دوست نہیں کہلا سکتا۔ دوستی نام ہی اعتماد کا ہے خلوص محبت محبت اور وفا کا ہے۔دوستی میں احترام ضروری ہے ہر نئی چیز خوبص

hub duniya

hub duniya  حب دنیا حب دنیا سے مراد ہے دنیا کی محبت۔ انسان آخرت کو بھول کر صرف اسی دنیا کا ہو جائے تو یہ حب دنیا ہے۔  ہر وقت یہاں کی رنگینیوں میں کھو یا رہے اور اپنی طرف سے یہ سمجھے کہ وہ ہمیشہ کے لئے اس دنیا میں رہے گا تو یقینا اس کے اندر طرح طرح کی برائیاں آنا شروع ہو جائیں گی یہ سب حب دنیا کا شاخسانہ ہے۔ طولانی آرزوئیں جو خود بے دنیا کی اولین علامت ہے ہے انسان کی آرزوئیں اور خواہشیں کبھی ختم نہیں ہوتی یہاں تک کہ اسے یہ دنیا ہی چھوڑ ہی پڑ جاتی ہے سائیکل سے اسکوٹر پھر گاڑی اور پھر نئی گاڑی۔۔۔۔ عام ق موبائل فون پھر کیمرہ اور پھر ٹچ موبائل۔۔۔۔۔ڈیسک ٹاپ پھر لیپ ٹاپ اور پھر ٹیبلیٹ۔ انسان کی یہ آرزوئیں جب پوری نہیں ہوتی تو وہ ہمہ تن اور ہمارا وقت رنج و غم کی کیفیت میں مبتلا رہے اور جو کچھ اس کے پاس ہوتا ہے مگر رہتا ہے اور جو نہیں ہوتا اس پر نظریں رہتی ہے۔ جو شخص دنیا سے محبت کرتا ہے وہ موت سے بڑھ جاتا ہے جب بھی کسی کی موت ہوتی ہے تو اس کا سبب وہ انسان کو ہی ٹھہراتا ہے اگر ایسا کرتا تو وہ نہ مرتا جیسے کہ اس نے آب حیات پیا رکھاہو بیماری سے اگر کوئی مر جائے تو کہتے ہیں وقت پر علاج کرتا تو نہ

shakhsiyat ki taamer

shakhsiyat ki taamer  شخصیت کی تعمیر انسانی شخصیت کی تشکیل میں اخلاق حسنہ کی اہمیت بہت زیادہ ہے حیات انسانی کے ہر شعبے میں اخلاقی قوت کا وجود تھے رے کو سنوارتا ہے اخلاق کی حکومت اللہ تعالی نے انسانیت کو عطا کی ہے جسے ہم اپنے عزم  صمیم اور ارادہ و تربیت سے بری کثافتوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ ہم ہم اخلاقیات کو ایک مذہبی اور روحانی سچائی کے طور پر لیتے ہیں حالانکہ اس کا تعلق انسان کے ان افعال سے ہے جو اسے کسی بہتر سماج کی حالتیں کر واقعی تک لانے کا باعث بنتے ہیں اس کے لیے ہر فرد کے ظاہر و باطن کی اصلاح بہت ضروری ہو جاتی ہے اچھا یا برا ہونا ارادے نیک ارادہ نہیں اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ شخصیت کی تعمیر کے لیے عزم کی مضبوطی کا ہونا بہت ضروری ہے اگر ہم شخصیت کی مضبوطی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اخلاق نور اور اجالے کی طرح ایک دوسرے سے پیوست رکھنا ہوں گے اگرچہ اخلاقی اقدار فطرت انسانی کا حصہ ہیں لیکن اب نہیں رکھتی ہے اور انسانی جذبات و احساسات کے ساتھ ساتھ ذہنی قوتوں سے نشوونما پاتی ہے لیکن اس نشونما کے لیے ریاضت و مشق ایک اساسی شرط کا درجہ رکھتی ہیں ۔ شخصیت کی تعمیر کے لئے اخلاق حسنا اور اخلاق حسنہ کی

نئی ہوائیں چلی ہیں چراغ کندکی اور

  نئی ہوائیں چلی ہیں چراغ کندکی اور قوموں کی زندگی میں تقلیب کا عمل  جاری رہتا ہے  بعض اوقات شکست کے مرحلے میں خیالات منتشر ہونے لگتے ہیں ہیں حالانکہ تقلیب کے عمل کی تکمیل ریخت سے ہوتی ہے۔ گویا شکست و ریخت بظاہر دو طرفہ عمل ہیں مگر اپنی اصل میں یہ دونوں ایک ہیں لیکن اس صورت میں جب محرکات مثبت ہوں ورنہ یہ منقلب ہونے کی بجائے کار تخریب کہلائے گا۔ ہم قیام پاکستان سے ہی اس عمل سے گزر رہے ہیں اور ہنوز ہمارے اندر تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں یہ تغیرات کہیں فکری سطح پر طلوع ہوتے ہیں تو کہیں عملی تہ پر۔ دونوں سطحوں پر اس کے اثرات پوری طرح جگمگاتے ہیں دراصل ہیں اثر پذیری سے بڑھ کر تعامل کا مرحلہ ہے جہاں بہت کچھ تبدیل ہوتا ہے جہاں سبب اور مسبب گاہے یکجا ہوتے ہیں اور کبھی کبھی ان میں سے ایک پس منظر میں چلا جاتا ہے ہے ایسے میں صحیح اندازہ لگانا قدرے مشکل ہو جاتا ہے ہے اسی وجہ سے صحیح ذہنیت رکھنے والے لوگ بھٹک جاتے ہیں وہ تندرست میں ہوتے ہیں لیکن وسیع تناظر میں ایسا نہیں ہوتا۔ فکر کی اس قدر کجی کو رفع کرنے کی خاطر لازم ہیں کہ قوم کی ان سطور پر تربیت کی جائے جہاں آفاقیت کا اظہار موجود ہو جہاں امکانات و

Sirf Aik Cup Part 2

Sirf  Aik Cup Part 2  اس سے لوگ نشے کے عادی بن کر بے کار ہوجائیں گے اسد نے بھی نفرت بھرے لہجے میں کہا۔۔ عمران منہ پھلا کر بولا لو جناب میں ان کے فائدے کی بات کرتا ہوں اور یہ دور کے چکروں میں پڑ گئے پھر اس نے کچھ ایسے دلائل دیے کہ سیفی کو اپنی بات کا قائل کرلیا۔اسد نے جب یہ صورت حال دیکھی تو واک آؤٹ کر گیا پھر وہاں سے وہ اپنے اپنے گھروں کو چل دیے سیفی جب اپنے گھر پر پہنچا تو خاصا خوش دکھائی دیتا تھا اس کی امی نے جب وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ میں ہوٹل کھولوں گا۔ اس کی امی نے کہا کہ تمہیں تو چائے بنانی نہیں آتی ہوٹل کیا کھولو گے سیفی نے کہا کہ ایک ملازم رکھ لوں گا اسے اچانک خیال آیا کہ ہمارے گاؤں سے  ایک لڑکا ہر روز شہر میں ہوٹل پر ملازمت کے لئے جاتا ہے میں اسے اپنے ساتھ رکھ لوں گا۔چنانچہ دوسرے ہی دن وہ اس علاقے میں گیا جہاں نیا صنعتی زون بن رہا تھا تھا اسے اپنی پسند کا ایک کمرہ بھی کرائے پر مل گیا دو تین دن بعد اس نے کام شروع کر دیا ابھی عمارت دھڑا دھڑ تعمیر ہو رہی تھی چند ایک کارخانے بھی مکمل ہو چکے تھے تاہم انہوں نے ابھی کام شروع نہیں کیا تھا مزدوروں کے لیے یہ چھوٹا سا ہوٹل بہت بڑی نع

sirf aik cup part 1

sirf aik cup part 1   صرف ایک کپ یہ کہانی تین دوستوں کی ہے ہے اسد عمران اور سیفی کے ناموں سے وہ جانے جاتے تھے تینوں سکینڈ ائیر میں تھے ایک ہی گاؤں میں رہنے کی وجہ سے ان میں گاڑھی چھنتی تھی۔ اسد اور عمران سیفی کی بہ نسبت معاشی طور پر خوشحال گھرانوں کے چشم و چراغ تھے یہی وجہ ہے کہ سیفی سکینڈ ائیر کے بعد ملازمت کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ان کے امتحانات شروع ہونے میں دو ماہ رہتے تھے۔۔۔۔ امتحان ہوا ۔۔۔۔ رزلٹ نکلا تو تینوں دوست اچھے نمبروں سے کامیاب ٹھہرے اسد اور عمران نے تھرڈ ائیر میں داخلہ لیا اور سیفی نے ملازمت کی تلاش شروع کی۔ کئی شہروں میں خاک چھاننے کے باوجود ڈھاک کے تین پات والی حالت تھی۔ کئی جگہ اس نے درخواستیں دیں کئی دفاتر میں انٹرویوز دیے مگر ملازمت کی دیوی مہربان نہ ہوئی اور کئی وجوہات تھیں وہاں سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ جس پوسٹ کے لئے تین آدمیوں کی ضرورت ہوتی وہاں تین سو امیدوار ہوتے ایک انار سو بیمار ایک شام تینوں دوست حسن اتفاق سے اکھٹے ہوگئے ادھر ادھر کی باتیں ہوئیں سیفی نے اپنی ملازمت کا ذکر چھیڑا تو اسد اور عمران کو یہ سن کر افسوس ہوا کہ ابھی تک ملازمت نہیں ملی۔۔۔۔ عمران نے مسکر

A teacher at his best

اپنے بہترین استاد غریب بچوں کو پڑھانا اور پڑھانا ان کا پیشہ تھا اور اس نے اسے سراسر محبت سے اپنایا۔ وہ کبھی کبھار اسے اپنی دوسری فطرت کہنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ جب بھی اسے گاؤں میں دیکھا جاتا وہ ہمیشہ اس کے ساتھ بچوں کے درمیان ہوتا۔ ہر دور کے بچے اس کے شاگرد اس کے دوست اس کے بیٹے اور سب کچھ تھے۔ ماسٹر شریف ان کا نام تھا اور وہ ہمیشہ پکارتے تھے اس لیے وہ نسل کے استاد تھے ان کے شاگردوں میں سے کچھ پوتے تھے اور ان کے والد اور دادا ان کے طالب علم ایک بار جب انہوں نے میل کیا تو انہیں ان کے گالوں پر چھوڑ دیا جاتا ہے جیسے وہ اپنے والد کے دادا کو سوئے تھے اور شاید ہوں گے۔ بیٹے ماسٹر صاحب درمیانے قد کے نمایاں ناک اور چمکتی ہوئی کالی داڑھی والے نوجوان تھے ان کی داڑھی بالکل گھنی تھی جتنی سڑک کسی باج کے درخت کی تھی اور اتفاق سے سکول میں ایک اوندھا درخت تھا جس میں وہ پڑھانے جا رہے تھے وہ ایک آدمی تھا۔ سرفیس ٹکٹ کا اور ہمیشہ اپنے آپ کو ضرورت مند رکھتا تھا اور نہانے کے بعد سفر کی صفائی کرتا تھا اس کا اپنا گاؤں بالکل نہر کے دائیں کنارے پر تھا اور ہائے دہلی کام سے واپس آتے ہوئے نہر کے کنارے پیدل جایا

Zindagi Ka Aik Saanha

Zindagi Ka Aik Saanha  زندگی ہمارے لئے اللہ تعالی کی طرف سے ایک عظیم الشان تحفہ ہے اس کی وج ہ سے ہی دنیا میں روزانہ نت نئے حالات و واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں بعض واقعات اس قسم کے ہوتے ہیں جن کے نقوش دل وہ دماغ پر رہ جاتے ہیں اور پوری زندگی نہیں مٹتے اسی قسم کا ایک واقعہ میری زندگی میں پیش آیا یہ حصہ واقعہ ہے کہ جس کو میں بھلانا بھی چاہوں تو نہیں بھلا سکتا یہ واقعہ بالکل سری نوعیت کا محسوس ہوتا ہے لیکن جو میری طرح حساس طبیعت کے مالک ہیں ان کے لیے بڑا معنی خیز ہے اس کے ساتھ مری جا رہا تھا تو راستے میں ایک مرغی اپنے چوزوں کے ساتھ سڑک سے گذر رہی تھے ایک تیز رفتار کار گاڑی نے اچانک ایک چوزے کو کچل دیا اس مرغی کے کچلے ہوئے چوزے کو دیکھ کر میرا دل ایک عجیب احساس سے لبریز ہوگیا اب اگر کوئی شخص مجھ سے کسی بھی ابھی وفات کا ذکر کرتا ہے تو مجھے وہ واقعہ یاد آجاتا ہے مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ سانس آئے گا بھی یا نہیں نہیں یہ سوچ کر میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں ہو کہ آفات ناگہانی سے پناہ ملے مجھے زندگی دوسروں کی مدد اور غمگساری میں بسر ہو آمین Life is a great gift from Allah Almighty for us, because

My Childhood Friend

My Childhood Friend  میرے بچپن کے دوست صرف دوست ہی نہیں بلکہ اچھے بھائی بھی ہے ہے میری رہائش کچھ عرصے سے سے ڈی ٹائپ میں ہے اس لیے میں اب بھی نہ ایک بار اپنے دوستوں سے ملنے چلا جاتا ہوں ہو جب میں ان سے ملتا ہوں تو وہ سب بہت شفقت اور عزت سے ملتے اور گپ شپ کرتے ہیں ہی میرا سب سے اچھا دوست معاذ ہے راز دشمن سے میرے ساتھ کھیلنے کا شوقین ہے یوں سمجھیں بچے کی محض جیسا دوست ملا تو مجھے سب کچھ کا شوقین ہوں مجھے معاذ نے اچھا گول کیپر بنا دیا مزے کی بات یہ ہے کہ خود معاذ کرکٹ کا بھی شوقین ہے ہے وہ بالنگ اچھی کر آتا ہے اس کی بال پر میں اکثر آؤٹ ہو جاتا ہوں  ایک دفعہ میں نے اور معاذ نے پروگرام بنایا کہ ہم کرکٹ کا ٹورنامنٹ کرواتے ہیں جس میں دو دو کھلاڑی ہوں گے جن کا نام بی پی ایل ہوگا مجھے یاد ہے کی محاذ جیت گیا معاذ غصہ نہیں کرتا لیکن اپنی طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہے اسے کبھی اچانک غصہ آجاتا ہے ہے پھر اس کے غصے کا نشانہ مومن میں مظلوم ہی ہوتا ہوں  آلو کے چپس اسے بہت پسند ہے ہم سب دوست مل جل کر دعوتی اڑانے کے بھی بہت شوقین ہیں اور ان دعوتوں اور ضیافتوں سے تمام دوستوں کو بہت مزہ آتا ہے ہے معاذ سب سے خوش